Written by 4:28 شام Uncategorised

بے تاج بادشاہ

اس کے رونے کی پہلی آوازآنگن میں گونجی ہوگی توپورا کنبہ خوشی سے نہال ہوگیا ہوگا۔ اماں اس ننھے مہمان پر صدقے واری جاتی ہوگی۔ پھراس نے اپنے بابا کی گود میں آنکھیں کھول کرایک شفیق چہرہ پہچاننے کی کوشش بھی کی ہوگی۔ اس معصوم کو کیا خبرتھی کہ وہ جس نازک وجود سے اپنے گھر کو مہکائے ہر گھڑی چہکتی پھرتی ہے صرف دس سال بعد کسی ویران جنگل میں اجنبی جھاڑیوں کی آغوش میں اس حالت میں ملے گا کہ اماں اور بابا بھی پہچان نہ پائیں گے۔ صد افسوس کہ اس کا حسین و منفرد نام جس نے تجویز کیا ہوگا اسے بیس مئی کی شام اپنا ننھا فرشتہ محفوظ وسلامت واپس نہ ملا۔

سوال یہ نہیں کہ فرشتہ کس قبیلے سے تعلق رکھتی تھی، کس صوبے سے تھی، کونسی زبان بولتی تھی، سوال یہ ہے کہ دارالحکومت  اسلام آباد سے جسے سیف سٹی بھی کہا جاتا ہے، آبادی کے بیچوں بیچ ایک کمسن بچی گھرسے کھیلنے نکلتی ہے تو کیوں اور کیسے اغوا ہو جاتی ہے؟ فرشتہ کے والد گل نبی کے مطابق وہ تلاش میں ناکامی پر فوری طور پر تھانہ شہزاد ٹاون میں اطلاع دیتا ہے تو پولیس صدمے سے دوچار مجبور باپ کے سامنے یہ ہتک آمیز رائے دیتی ہے کہ اس کی دس سالہ بیٹی کے کسی سے تعلقات ہونگے لہذا خود گھر سے بھاگ گئی ہوگی۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ متاثرہ خاندان کی فوری داد رسی کی بجائے ایسی توہین اورروایتی ٹال مٹول کے بعد اہل خانہ کے احتجاج پران کی تشفی اورخانہ پری کے لیے صرف روزنامچے میں رپٹ کا اندراج کیوں کیا گیا؟ قانون کے مطابق بلا تاخیر ایف آئی آردرج کرکے با ضابطہ اورسنجیدہ تفتیش اورتلاش کا آغازکیوں نہ کیا گیا؟ پندرہ سے بیس مئی تک مجرمانہ غفلت برت کرانتہائی قیمتی وقت ضائع کر دیا گیا۔ اس دوران متعلقہ ایس ایچ او اورتفتیشی افسر کے سر پر جوں تک نہ رینگی تا آنکہ سڑکوں اورسوشل میڈیا پراحتجاج کے شدت پکڑنے پر مجبوراً ایف آئی آر درج ہوئی اوراگلے ہی روز بچی کی دریدہ بریدہ نعش برآمد ہو جاتی ہے۔  سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اس سنگین نا اہلی اورغیر پیشہ ورانہ رویے کے نتیجے میں بچی کی آبروریزی اورقتل کا ذمہ دار متعلقہ تھانہ کیوں نہیں ہے؟

 یہ گویا دستور بن چکا ہے کہ کسی شکایت کے اندراج کے لیےعام شہری کوتھانے میں داخل ہوتے ہوئے بھی خوف آتا ہے۔ عزت نفس، سماجی مقام ومرتبہ گروی رکھ کراسے سپاہی سے لیکر داروغہ تک ہر ایک کی بار بارمنت سماجت کرنا پڑتی ہے لیکن تگڑی رشوت، کسی مقامی معزز، کونسلر، سیاسی یا سرکاری عہدیدار کی سفارش کے بغیر ایف آئی آر کبھی درج نہیں ہو پاتی۔ قانون کی راہ میں خود پولیس آڑے آ کریہ عمومی عذر لنگ بھی پیش کرتی چلی آئی ہے کہ عدالتوں میں پہلے سے زیر سماعت مقدمات کی بھرمارکی بنا پر اوپر سے ہدایات ہیں کہ ایف آئی آر کے اندراج اور چالان پیش کرنے کی تعداد کم رکھی جائے۔ چلیں یہ انوکھی منطق تسلیم کر بھی لی جائے تو کیا اڑتی چڑیا کے پر گن لینے اور پاتال سے لیکر دل کی گہرائی تک پہنچ کر ہربات کا سراغ لگا لینے کی مبینہ خدا داد صلاحیت اورخودساختہ تجربے کے حامل تھانہ شہزاد ٹاون کے بے تاج بادشاہوں کو ایک معصوم بچی کی گم شدگی کا معاملہ بھی غیراہم محسوس ہوا تھا اوراسکےاہل خا نہ کی مسلسل چار روزتک دہائی مصنوعی اور فریاد مشکوک دکھائی دی تھی؟ اب رہے گھسے پٹے بیانات اور پرانے تاخیری حربے تو کون یقین کرے جب زبان خلق نقارہ خدا بننے کے قریب ہو، امن مخدوش دکھائی دے، ٹوئٹراورفیس بک تعاقب میں ہوں تواعلان کرڈالا کہ فلاں افسر(چھوٹے درجے کا)، فلاں اہلکارمعطل کر دیا گیا، تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی گئی، اڑتالیس گھنٹوں میں رپورٹ طلب، مجرموں سے آہنی ہاتھ سے نمٹا جائے گا، ذمہ داروں کو قرارواقعی سزا دی جائے گی۔ کون جیتا ہے تیری زلف کے سر ہونے تک۔   

 گذشتہ ڈیڑھ عشرے سے ہر دور حکومت میں پولیس اصلاحات کا غلغلہ رہا ہے لیکن تھانے کو دارالامن پکارنے، یونیفارم کا رنگ بدلنے اوردیواروں پر، پولیس کا ہے فرض مدد آپکی، جیسے خوشنما نعرے لکھنے جیسے ظاہری اقدام اس وقت تک لیپا پوتی کے زمرے میں آئیں گے جب تک رشوت، سفارش دھونس ،تشدد اور سیاسی مداخلت کا راستہ بند نہیں ہوتا۔ موٹروے پولیس کی مثبت مثال اورعمدہ کارکردگی مد نظررکھتے ہوئے روایتی پولیس فورس کی جدید سائنسی اورنفسیاتی خطوط پرتربیت، انسانی حقوق سے اگاہی اوراحترام آدمیت سے شناسائی شاید آج انہیں جدید اسلحے سے لیس کرنے سے زیادہ ضروری ہے۔ موجودہ پولیس کا ادارہ جاتی ڈھانچہ مرمت نہیں ازسرنوتعمیرکا متقاضی ہے جس میں بہت سی پرانی اینٹیں نا قابل استعمال قرار دینا پڑیں گی۔ ورنہ ناکوں، چوکیوں اورتھانوں میں بداخلاقی اوربد سلوکی تو رہی ایک طرف جب پولیس اہلکاروں کی جرائم میں بنفس نفیس ملوث ہونے کی متعدد مثالیں ملیں تو کون غریب انہیں قانون کا رکھوالا ماننے پر راضی ہوگا۔

کہا جاتا ہے انگریزحکمرانوں نے برصغیرمیں سرکاری عمارتوں کی تعمیر کے دوران اس بات کا خاص خیال رکھا کہ مرکزی داخلی دروازے میں ایک چھوٹا کھڑکی نما دروازہ رکھا جائےاورافسران کے کمروں کے دروازے کی چوکھٹ کی اونچائی بھی کم رکھی جائے تاکہ سائل سر جھکا کر اندر آئے۔ وہ حکمران کب کے رخصت ہوئے مگر ڈیوڑھیوں کے در بھی وہی ہیں اور اندرموجود صاحبان اختیار کے سر بھی۔ استغاثہ کرنے والے ہر فریادی کو تھانے میں داخل ہوتے وقت پگڑی اورٹوپی سنبھال کر ہی رکھنا پڑتی ہیں۔ مزید برآں اپنے جائز حق کے حصول کے لیے درخواست میں بخدمت جناب ، حضور، جناب عالی، بندہ پرور، مودبانہ گزارش، فدوی، عرضگزار، آپ کا خادم جیسے قدیم غلامانہ دورکی یادگارالفاظ انسان کی تحقیرکے لیے کافی ثابت ہوتے ہیں۔ یہ ذہنیت بدلنا ہوگی کہ عمال اورحکمران تو قوم کے خادم اورمعمارہوتے ہیں نہ کہ بزعم خود بادشاہ سلامت بن کرعوام کو مجبورو زیردست بنانےوالے۔ 

پولیس کے موجودہ فرسودہ نظام کی اصلاح نہ کی گئی تو تھانوں کےایسے بے تاج بادشاہ قانون کی من پسند تشریح اور نفاذ کرتے رہیں گے۔ ریاستی سطح پر قانون کی مساوی اور حقیقی بالا دستی کا خواب کبھی پورا نہ ہو سکے گا۔ احساس تحفظ کو ترستے تمام والدین کو قصورکی زینب اورعلی پورکی فرشتہ کی چیخیں بازگشت بن کر، رلاتی اوردہلاتی رہیں گی۔   

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

انعم صبا

(Visited 3 times, 1 visits today)
Close