Written by 5:20 شام اہم خبریں

حنا کو ترسی ہتھیلیاں

وہ حنا کو ترسی ہتھیلیاں

روایتِ کہنہ کچھ یوں ہےکہ خاندان کےبزرگ اپنےنوخیزونوجوان فرزنداوردخترکی عائلی زندگی کےآغازکی خاطرسرجوڑکربیٹھتےہیں۔ جمہور میں اولاً اعزاواقارب میں اقتصادی لحاظ سےمستحکم وخوش حال گھرانےکی نشاندہی اورثانیاً اس میں موجود بہترین شمائل وخصائل اور خوئےفرمانبرداری کےحامل دامادیابہوکےانتخاب پرگفت وشنید شروع کرتےہیں۔ دیہات میں بالعموم حضرات خطابت اورخواتین سماعت کا فرض ادا کرتی رہی ہیں۔ خواستگاری یا  ہاتھ مانگنے  کی خواہش کوکفو ومعاش اورحسب ونسب کے ضمن میں تنقیص وتنقید کی کڑی میزان پراچھی طرح تول کےبات آگےبڑھانےکاعندیہ دیاجاتاہے۔ ہمسروہمسفرکےانتخاب کے لیے جاری ان نشستوں میں عام طور پرفرزندانِ  دلبندبراجمان جب کہ دخترانِ بے زبان، بے ترتیب دھڑکنوں کے ساتھ کسی چلمن یا نیم وا دریچےکےعقب میں کھڑی، ہمہ تن گوش  اپنی تقدیرکے لکھےکی سن گن لینےکی سعی کرتی ہیں۔

 جملہ سربراہان خانوادہ کوخود ساختہ اصول اورارث یافتہ خاندانی ضوابط اگرکچھ اجازت مرحمت فرما دیں تواولاد سےانکی رضا مندی لینےکا تکلف بھی شاذونادرمشاہدے میں آجاتا ہے۔ صاحبزادے میاں کی سوال و دریافت کی جسارت قدرے قابل قبول لیکن دختر نیک اخترکا کوئی سا سوال بھی گستاخی پرمحمول کیا جا سکتا ہے۔ اس حوالے سےمقامی رواج و سماجی رسوم نے مذہب و فقہ کےعطا کردہ حقِ انتخاب ِزوج  پربھی جیسےغیراعلانیہ قدغن لگا رکھی ہے۔ گھر کی چہار دیواری کےاندربھی میلانِ طبع اور پسند و نا پسند کا فطری اظہار گویا بے حیائی کےزمرے میں آتا ہو لہذا خاموشی میں ہی عافیت سمجھی اور سمجھائی جاتی ہے۔  مزید بر آں بڑوں کے سامنے ہمیشہ سر جھکا دینا علامت ِ فرمانبرداری اور خاموشی  انداز ِاقرار کے مترادف  تو ہیں ہی۔بزرگان اس کی توضیح میں یہ دلیل دیتےہیں کہ ہم لوگ عمررسیدہ وجہاں دیدہ ہونے کےساتھ ساتھ گرم وسرد چشیدہ بھی ہیں، جبکہ کم سن اولادعملی زندگی کےتقاضوں سےنا بلد اورجذباتی فیصلوں پرانحصارکرتی ہے۔ ایک طرف والدین مصرکہ بچوں کے مستقبل سے متعلق ان کے فیصلےہی معقول و موزوں ہیں اور رہی بات ذہنی ہم آہنگی اور قلبی لگاو  وغیرہ کی تو وہ بعد ازرخصتی خود بہ خود وقوع پذیر ہوتا رہے گا۔ دوسری جانب خرد افروزجامعات میں زیرتعلیم، سارے جہان سے مربوط، مخابرۂ گردشی جیسے دستی جام ِجم سے پل پل چشم کشا دنیا دیکھتےاورلمحہ بہ لمحہ بدلتےاحوال عالم پرکھتےنوجوان ان توجیہات ودلائل سےکلی طورپرمتفق نظرنہیں آتے۔ ان کابس یہی کہنا ہے کہ جسے زندگی گزارنا ہےاسےہی حتمی فیصلے کا اختیارہونا چاہیے۔ سچ تو یہ ہے کہ اپنی جوانی میں یہی سادا سی بات سب کے دل کو لگتی ہے لیکن کیا کریں  عمر  کاسنہرا سورج ڈھلنے کے ساتھ ساتھ نکتۂ نظر کا سایہ بھی جگہ بدل لیتا ہے۔

غیرجانبدارناقدو مبصربیچ اس مسئلے کے یہ کہتا ہےکہ ازدواج  سے متعلق تمام پدرانہ فیصلوں اوربزرگانہ احکامات کے پیچھےمحض اولاد کی بہتری اور روشن مستقبل سے وابستہ پرخلوص جذبے ہی کار فرما نہیں ہوتے بلکہ بسا اوقات انا پرستی، خانگی سیاست، اب و جد کی وصیتں، مقابل کوزیرِبارو زیر ِنگیں لانے کی آرزوئیں اورزمین وجائداد کی تقسیم کےممکنہ نقشے بھی دوربین بصارتوں کو روشنی اور پختہ کاربصیرتوں کومہمیز دے رہے ہوتے ہیں۔  بعینہ اکثرنوجوان انتخاب زوج کے لیے صورت و سیرت،  تعلیم و  پیشہ ورانہ تربیت ،نشست و برخواست، گفتار ورفتارکے ذیل میں اپنے مخصوص  معیار وزاویہ نگاہ کی داد آفرینی کے متمنی رہتے ہیں اوروالدین کےتخمین وظن سے، سوائے اطاعت یا معاشی استحکام کےپرکشش پہلو کے، کچھ زیادہ سرو کار رکھنے پر مائل و قائل نہیں دکھائی دیتے۔  بظاہرایسی فضا میں باہمی اعتماد سازی اور فیصلے میں  شرکت ومشاورت کا عمل ہی توازن واعتدال کی راہ اورمسئلے کا درست حل معلوم ہوتا ہے ۔ اس ضمن میں جہاں دور افتادہ مقامات اوردیہی علاقہ جات میں”ہنوز دلی دوراست” جیسا معاملہ ہےشہری آبادیوں میں بچوں سے رضا مندی لینے کاتناسب قدرے بہتری کی جانب گامزن ہے۔

بہر طور،شہر ہو یا گاوں ،جیسے تیسے رشتہ طے ہو جانے کے بعد سکھ کےدوسانس لینے سے قبل ہی متوسط و کم وسائل کےحامل والدین ایذارسانی ومسلسل پریشانی پر مبنی ایک اور مرحلے سے دوچار ہوجاتے ہیں۔ جہیزکی تیاری، زیورات کی خریداری، اور بارات کےاستقبال وضیافت کا اہتمام و انصرام رگِ جاں سے آخری قطرہ خوں نچوڑنے والے تفکرات بن کے شب وروز انہیں دہلاتے ہیں۔ جہیز و اصراف کی   وبا    جوانسانوں کو زندہ درگور کر رہی ہے،ارباب بست و کشاد کواس سے فی الحال سروکار نہیں۔ جاگیرداروصنعتکارحکمران دردِ افلاس سے بے نیاز، قوانین کےسال خوردہ نسخےبند الماریوں میں سینت کے رکھےمحوِکارِسیاست و امورِریاست ہیں۔ حکومتی تشخیص ِمرض اورمنطقِ علاج ہی نرالی ہے؛      سرکارعوام کے اس درد کو دور کرنے کے جتن کرتی ہے جو کبھی اٹھا ہی نہیں ہوتا اور ” تا تریاق از عراق آوردہ  شود،   مار گزیدہ مردہ شود” کے مصداق   سانپ کے ڈسے کوجس تریاق کی اشد ضرورت ہوتی ہے اس کے پہنچنے سے پہلےوہ مر چکا ہوتا ہے۔ باقی رہا "ون ڈِش” نامی لولے لنگڑے قانون کا اکلوتا رکھوالا،کوتوال؛          تو اس کی اندھی لاٹھی  کا زورہمیشہ لاچار و لا وارث پر چلتا آیاہے ۔ نفاذ قانون کے لیے دیگوں سمیت دولہا قریبی تھانے ارسال ہوتے دیر نہیں لگتی ۔ تگڑی سفارش یا  رشوت  سے ضمانت صرف دولہا کی ہوتی ہے ، اجزائے خورد و نوش پھر بھی بحق سرکار ضبط۔

آج پاکستان میں تمول اورپسماندگی کےقطبین کےدرمیان اہل ثروت، بالائی متوسط ، متوسط اورکم وسائل ( شاید بے وسا ئل کہنا  مبالغہ نہیں)کے حامل چار نمایاں طبقات کارگاہِ زیست میں سرگرم عمل ہیں۔ محدود استثنا کے ساتھ ، اہل ثروت کےعمومی رویے کا پہیہ ، معا شرے سےلا تعلقی اور بےاعتناعی کے جس سنگی مرکزے کے گرد گھوم رہا ہے اس کےچھوٹے  سےقطر کے دامن میں ذاتی تحفظ و ترقی، تقابل ومسابقت، نمود و نمایش  اور تمسخر و تفاخرکے سوا کچھ خاص نہیں ملتا۔  وہاں اخراجات کی خاطر مواقع تراشےاور پیسہ پانی کی طرح بہانے کے حیلے گھڑے جاتے ہیں۔ ان کی غیرارادی پیروی میں اب بالائی متوسط طبقہ اپنے رشتہ داروں اوراحباب پر "ہذا من فضل ربی” کی دھاک بٹھانے کوتیارلیکن اس مخمصےکا شکار بیٹھا ہے کہ فلاں ابن فلاں کی شادی کےدعوت نامے، بارات میں شامل مہمانوں کی تعداد، مقام تقریب کی گرانی ،  طباخی مہارت اور دعوتی رکابیوں کے تنوع کے مقابلے میں کہیں کوئی کمی رہ گئی توبات خدا نخواستہ انکی ناک کی قطع و برید تک جا پہنچے گی۔

 اس گروہ کی دیکھا دیکھی نام نہاد    ” شریکے” سے خائف و مزاحم متوسط طبقہ  اپنی بوسیدہ چادرِ استظاعت سے باہر پاوں پھیلائے، قرض اٹھائے ،    ماضی میں اردو کےدرسی نصاب میں شامل”پنجابی زمیندار کی کہانی” کا جیتا جاگتا کرداربنا ،خود اپنے لیے کانٹوں بھرے ببول کی فصل بو نے اور کاٹنے میں جتا ہے۔ پہلے لڑکی کے لہنگے، پشواز، غرارے اورشرارے پرنفیس ومہین دستکاری کی فکر کیا کم تھی کہ اب دولہا میاں کی دستاروکلاہ ، شیروانی واچکن، منقش طلائی کفش اور اطالوی چرمی پا پوش کی قیمتیں بھی آسمان چھونے اور پاوں کے نیچے سے زمیں کھینچنے کے درپے ہیں۔ ستم بالائے ستم جب تک کسی معروف اورانتہائی مہنگی آرایشگاہ سے حسن وجمال کو چار چاند مزید نہ لگوا لیے جائیں تو طبع نازک پہ خاصا ناگوارگزرتا ہے۔اس پہ مستزاد  بجلی کے بحران سے دوچارملک میں ، گھر کی چھت سے صحن کی کیاری تک برقی قمقمے ہمسایوں کی آنکھیں چکا چوند ،  بلند آہنگ موسیقی سماعتیں بہری اورصبح کاذب تک ہلہ گلہ نیندیں حرام نہ کر پائیں تو ایسی روکھی پھیکی تقریب کاخاک مزہ۔

آج گرانی و بےروزگاری کےاس عالم میں کہ لقمۂ نان جویں کا ہاتھ سے منہ تک کا سفر بھی طویل و محال اورجاں سوزوجانکاہ بن چکا ہو، وہاںشادی بیاہ کی تیاریوں میں ایسےانہماک واستغراق اورپرتصنع طمطراق نے جہاں کم وسائل کے حامل سفید پوش طبقے کو بے توقیرکیا ہے وہیں خط غربت سے نیچے سانس لیتی، بلکتی سسکتی انسانیت کے نرخرے پربے حسی کےعفریت نے پائے تحقیر کا دباو مزید بڑھا کر شادی جیسی خوشی کو مثلِ مرگ بنا ڈالا ہے۔ بے وسائل والدین محض چار جوڑے کپڑوں اوردوسنہری بالیوں کوترستی اپنی راج دلاری کی بہارِعمر کوکس بے بسی اور بےکسی کےعالم میں تجرد کی دائمی خزاں میں ڈھلتے دیکھتے ہیں، شاید کوئی نہیں جانتا۔

 بابل سے پیا گھرسدھارنے کا انتظار کرتی، کوئی چندے آفتاب و چندے مہتاب دوشیزہ کسی صبح اچانک آئینۂ ہمدمِ دیرینہ کے رو برو سیاہ زلفوں میں نمودار ہونے والا پہلا نقرئی تاردیکھ کرخاموشی سے یا چھپ چھپ آنسو بہاتی کرب کی کس گہری سیاہ گھاٹی میں اتر جاتی ہو گی، کسے معلوم۔

بچپن سے جھاڑو پوچے، چولہے چوکےمیں ہاتھ بٹاتی ، کنبےکی خدمت گار، ڈھلتی  عمر والی بٹیا  رانی، اطراف و جوارمیں بجتی شہنائی کی ھوک یا ڈھول کی تھاپ سنتے ہی، جھٹ سے ہرکام چھوڑ،  بے قرار وبے ساختہ گلی میں جھانک  جھانک گلاب و سمن سے آراستہ گاڑیوں کی طویل قطاراوررنگ و بو سے پیراستہ باراتی قافلے میں نجانے کیوں کھو سی جاتی ہے۔ شایداس دل لبھاتےمنظرمیں وہ چپکے سےاپنے ارمانوں کی چاپ سنتی اور خواب بنتی ہو۔ اس نادان کو کون روکے، کون سمجھائے کہ بی بی !  قواریر سے نازک نسائی ہاتھوں کی کھردری ہتھیلیوں میں حنائےعروسی رچنے کی لکیرہو بھی تو بعض او قات مہندی میسر نہیں آتی۔

تقریباً ہر قریے ہر کوچے میں ایسی ان گنت درماندہ  و آزردہ خواتین اپنی چشمان حیراں میں حسرت ویاس کی نمی لیے کسی معجزے کی منتظرہیں۔ بے شمارپسماندہ والدین دست ہائے ناتواں سے مشقت کرتے گویاسماج و معاشرے کےاجتماعی ضمیرکی چوکھٹ پرمسلسل دستک دے رہے ہیں ۔  ضمیر؛جو تند سیلِ حیاتِ رواں میں  مجبوری کے نام پرنفسا نفسی کی لہروں  پہ   پرِکاہ بنا بس بہاو کے رخ بہتا  ہی چلا جا رہا ہے۔ پیچیدہ انسانی نفسیات اورلطیف  جذبات  کی تکریم میں پھل کھا کر چھلکے نمایاں مقام پرپھینکنے کی ممانعت والی حکایت سےسب واقف و متفق لیکن صدیوں پہ محیط سفر کے بعد بھی اسکی معرفت  اور حکمت سے استنباط کم یاب،                                                        راہنمائی معدوم اورعمل مفقودہونا لمحۂ فکریہ ہےکہ ایسےمعاشرتی قوانین و تربیتی ضوابط ارتقائے انسانیت  و سہولتِ آدمیت کے لیےوضع کیےگئے۔ چشم فلک دیکھتی چلی آئی ہےکہ مجموعی مفاد سے انحراف و روگردانی  ،بہ تدریج انفرادی ابتری و اخلاقی انحطاط پہ منتج ہوتی ہے۔

آج حقِ انتخابِ زوج اور اصرافِ تقریباتِ عروسی سے ماخوذ و معنون ہر دوموضوعات ہمارےاحساس و شعور کے اونچے کنگروں کےعین مقابل وہ سوالیہ نشان بن کےایستادہ ہیں جو  از روئےوجودِ معنوی کسی ہمالیہ سے کم  بلنداورمارگلہ سے کم اہم نہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 مجتبٰی حیدران (اسلام آباد)

mujtaba.haideran@gmail.com

(Visited 9 times, 1 visits today)
Close