Written by 5:27 شام اہم خبریں

سکندر اعظم اور ٹرک کی بتی

سکندر اعظم اور ٹرک کی بتی

کہا جاتا ہے کہ سکندراعظم نے ہندوستان کی مہم جوئی کےلیےاپنےلاولشکرسمیت خطہ پوٹھوہار کے جنوب میں موجودہ ضلع جہلم سےمیانوالی کے بیچ ایک نیم پہاڑی مقام سے گزرتے ہوئے کچھ دیر پڑاو ڈالا۔ اس دوران گھوڑوں کو گھاس چرنے کے لیے چھوڑا گیا تو انہوں نے پتھروں کوچاٹنا شروع کر دیا۔ تجسس کے مارے کسی لشکری نے بھی پتھرچاٹ ڈالا تومعلوم ہوا کہ اتفاقیہ طورپرنمک دریافت ہو گیا ہے۔

اگردوہزارتین سواڑتیس برس قبل کوئی بھلا مانس سکندرکےکان میں سرگوشی کرکےاسے یہ باورکرا دیتا کہ بھیا ! تم کہاں نگری نگری مارے مارے پھرتے ہو، چشم بد دور ہمارے گھوڑوں نے سونے چاندی، ہیرے جواہرات سے بڑھ کے قیمتی ایک پتھرکھوج نکالا ہے تو شاید سکندربھی جہاں گیری کے خیال سے کنارہ کش ہو کر، جنگ وجدل سےتائب ہوکرہمیشہ کےلیےاسی نمکین ٹیلے پربراجمان ہوجاتا۔ پھراقتصادیات کے مضمون پرتھوڑی توجہ، جمع تفریق اورضرب تقسیم کے نتیجے میں یونان ہی کیا شاید جہان بھرکے معاشی مسائل کا حل اسی مقام سے نکل آتا۔ بس شومئی قسمت اس وقت نہ سبزباغ کی اصطلاح وجود میں آئی تھی نہ ٹرک ایجاد ہوا تھا کہ جس کی بتی کے پیچھے لگانے کا کوئی حربہ کام آتا۔ کم ازکم انٹرنیٹ ہی ہوتا تو چند ماہرین فیس بک اورمشیران ٹوئٹر اپنے سمارٹ فون کی سکرین پرنئےمنصوبےکی لائکس اورٹرینڈ دکھا کراسے کوہستان نمک میں روک ہی لیتے۔

لیکن یہ امراب قطعی طور پرحیران کن نہیں رہا کہ معاشی زبوں حالی سے دوچار پاکستانی عوام کی قابل ذکراکثریت کسی معجزے کی امید میں ایسی ہرخبر پرمن وعن یقین کر لیتی ہے جس کے نتیجے میں اسے کسی ممکنہ آسودگی کی جھلک بھی دکھائی دیتی ہو۔ تنگ دستی کی سرنگ کے دہانے پریہ روشنی کبھی سی پیک کی صورت میں دل لبھاتی ہے تو کبھی سینڈک اورریکوڈک میں سونے اور تانبے کے وسیع ذخائرکی دریافت کےاعلانات کی شکل میں کانوں میں رس گھولتی ہے۔ کبھی بے صبری بڑھنے لگے توچنیوٹ میں دریافت کردہ سونے کا ذخیرہ راحت بخش ثابت ہوتا ہے یا پھر تھر کے کوئلے سے جذبوں کی حدت کا سامان ہونے لگتا ہے۔ کسی خوشخبری کے منتظروجود ساحل پہ کھڑے تیل اورگیس کے برآمد نہ ہونے پرافسردہ ہوکر بیٹھنے کو ہوتے ہیں کہ اچانک کوئی آواز لگاتا ہے؛ پیچھے دیکھو پیچھے۔ تمہارے سارے مسائل کا چھپر پھاڑ حل تو کھیوڑہ والی نمک کی کان میں پوشیدہ ہے۔ ایسے میں جذباتی، سیانے، نمانے سب سوشل میڈیا پرایک دوسرے پر سبقت لے جانے کوسمجھانے لگتے ہیں کہ صاحب! یہ کوئی عام سوڈیم کلورائڈ یا ہیلائیٹ نمک نہیں اس میں توخیر سے میگنیشیم، پوٹاشیم، کیلشیم سمیت بیسیوں دیگرنایاب اورمفید معدنیات کی موجودگی کی بنا پرہی ساری دنیا دیدہ ودل فرش راہ کیے بیٹھی ہے۔ یہی نہیں، پھراپنے اپنے تئیں انگلیوں پر ہی موٹا موٹا حساب کتاب لگا کے جھٹ بتاتے ہیں کہ سارا خرچہ نکال کے بھی اربوں، کھربوں کا منافع ہےاورجناب وہ بھی ڈالروں میں۔ پاکستان کے سارے قرضے تواکیلا ہمارا کھیوڑہ کا شہرادا کرسکتا ہے۔

اب جلتی پہ تیل یا سونے پہ سہاگہ جو مرضی کہیں، کسی گوگلی دانشورکواچانک بھنک پڑتی ہے کہ ہمارا یہ انمول سرمایہ ہری سنگھ نلوا اورمہاراجہ گلاب سنگھ کی ملی بھگت کے بعد صدیوں سے چپکے چپکے پڑوسی ملک میں جارہا ہے جہاں اس نمک کو صرف خوشنما پیکنگ کی زحمت کے بعد یورپ، امریکا اور کینیڈا برآمد کرکے بھارتی حکومت دونوں ہاتھوں سے دولت سمیٹنے اورتجوریاں بھرنے میں مصروف ہے تو ایک سو چھپن روپے چالیس پیسے میں ایک ڈالر خریدتے ہرمحب الوطن کی آنکھ بھرآنا اوراس نقصان دہ برآمد پردلی صدمہ بلاشبہ فطری ہے۔ یہ کوئی نہیں بتاتا کہ کینیڈا میں انٹاریو کی سفٹو دنیا کی سب سے بڑی نمک کی کان ہےاور یورپ میں پولینڈ، جرمنی اور رومانیہ میں بھی معدنی نمک کی بڑی کانوں سے جاری کثیر پیداوار ہمارے خوش خصال گلابی نمک کی خاطرخواہ عالمی برآمد کی راہ میں حائل رہے گی۔     

اس تمام ترغیرمنطقی استدلال اورامیدوں کی نازک ڈورسے بندھی مایوس کن صورت حال کے پیچھے حقیقت پسندانہ رویے کے برعکس ایک نفسیاتی بے چینی اوروہ بے یقینی ہے جوآے روزمہنگائی میں مسلسل اضافے کی بنا پرہرایک کی جان کوآئی ہے۔ ایک عام فرد فن اقتصاد کےاسرارو رموز نہیں سمجھتا لیکن جب اسے اپنی جیب ٹٹولتے ہوئےزائد رقم نکال کر دکاندارکی ہتھیلی پررکھنا پڑتی ہے توآٹے دال کےبھاو میں اتارچڑھاواسکی سمجھ میں بہ خوبی آجاتا ہے۔ ایسے میں گردوپیش سے کانوں میں پڑنے والےتجزیاتی تبصرے اورآنکھوں کے سامنے رقص کرتےاعداد وشمارتسلی تو دے سکتے ہیں، اس کے درد غربت کا درماں نہیں بن پاتے۔ ایک ٹھوس اورجامع اقتصادی حکمت عملی اور دوررس منصوبہ سازی کی عدم موجودگی میں اگرکوئی سب سے زیادہ بے سمت رہتا ہےتوشاید وہ عوام ہیں۔ وہی عوام جو ایک باراپنے اپنے قائدین کی عقیدتوں اورمحبتوں میں فنا ہوجائیں توہمیشہ وہی دیکھنے پرراضی رہتے ہیں جوانہیں دکھایا جاے۔ جو اپنی بدحالی کوقسمت کا لکھا یا مہنگائی کوآخری قربانی سمجھتے ہوئے اپنے بچوں کی تقدیر بدلنے کےمنتظرہیں۔ جو نجانے کب سے دائروں میں گھوم کررانجھا رانجھا کرتےاس قدیم ضرب المثل کی عملی تصویر بنے خود نمک نمک ہوئے پھرتے ہیں کہ؛

چشم بہ تو اُفتاد و وجودم ہمہ حک شد
ہر چیزکہ درکان نمک رفت نمک شد

میری نگاہ تجھ پر پڑی تو میرا وجود بالکل مٹ گیا کہ جو چیز نمک کی کان میں جا پہنچے وە خود بھی نمک ہو جاتی ہے۔

بھلا آنکھوں سےدھول جھاڑے بغیرکوئی آگے یا پیچھےدیکھنے کے قابل رہتا ہے؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ٓ

انعم صبا

(Visited 16 times, 1 visits today)
Close