Written by 5:32 شام اہم خبریں

قصہ ایک سفر کا

قصہ ایک سفر کا     

مجتبٰی حیدران

بھوری مٹی کے قدیم و بلندا ن ٹیلوں کے بیچوں بیچ   ایک لہراتی، گنگناتی ندی اجلے شفاف پانیوں کو دامن میں سموئے،  فضا میں ترنم بکھیرتی آہستگی و سکوں سے بہتی چلی جا رہی ہے۔ بارشوں سے بریدہ، ہواؤں سے کشیدہ اور سورج کی تمازتوں سے تراشیدہ اس سطح مرتفع کا دلکش روپ ہے اور پوٹھوہار اوردھن کے مابین ایک گاؤں سے دوسری بستی کا سفر جاری ہے۔قافلہ ایک ادھیڑ عمر، ایک نوجواں اور ایک سات سالہ بچے پر مشتمل ہے۔ جو سر سبز و شاداب ماحول میں بل کھاتی پگڈنڈیوں پر اپنی دھن میں مگن چلے جا رہے ہیں۔ندیا کنارے چلتے بچے کو شیشے کی مانند چمکتے پانی میں اچانک چھوٹی چھوٹی مچھلیاں تیرتی دکھائی دیں۔ عہد طفولیت کا فطری استعجاب و تجسس اسے پانی سےکھیلنےپر اکسا رہا ہے۔بچے کا ارادہ اور میلان بھانپتے ہوئے دونوں مہربان رفقا کچھ دیر کو سفر موقوف کر کے ٹھہر جاتے ہیں اور ایک بزرگ ہمسفر، بچے کو اپنے پاس بلاتے ہیں۔ اس کے جوتے اتار کر اپنے ہاتھوں میں تھام لیتے ہیں اور اسے پانی میں کھیلنے کی اجازت مرحمت ہوتی ہے۔ گھٹنوں گھٹنوں صاف پانی اور تہہ میں پاؤں کےنیچے نرم و ملائم ریت اسے ان حسین مناظر سے پہلی بار روشناس کرارہی ہے۔ نو آموز اور کمسن طفل کے ہاتھ آس پاس تیرتی ننھی منی مچھلیوں کو پکڑنے کے تگ و دو میں بار بار لپکتے مگر ہاتھوں میں پانی  اورریت کے سوا کچھ نہ آتا۔دونوں احباب کنارے پر اگی گھاس پر بیٹھے یہ منظر دیکھ کر مسکرا رہے ہیں۔ اچانک بچے کے ہاتھ میں ایک چھوٹی سی مچھلی آجاتی ہےجو وہ کامیابی سے سرشار اور تفاخر سے دونوں بزرگ احباب کو دکھاتا ہے ۔ آب رواں سے باہر ماہی بےتاب کی زندگی محال ہونے سے قبل ہی حکم ملتا ہے بیٹا اسے واپس پانی میں چھوڑ دواور دیکھو یہ اپنے خاندان اور دوستوں کے درمیان پھر سے کس قدر خوش ہو کر تیرتی ہے ۔ "کرو مہربانی تم اہل زمیں پر، خدا مہرباں ہوگا عرش بریں پر”۔

بزرگ بچے کے ہاتھ پاؤں دھلوانے کے بعد اسے جوتے پہناتے ہیں، شفقت سے اس کے سر پر بوسہ دیتے ہیں اور اس کا ہاتھ تھام کر نیم ہموار راستے پر پھر سےمحو سفر ہو جاتے ہیں۔ راستے میں خاردار جھاڑیوں سے تازہ کھٹے میٹھے بیر توڑ کر بچے کی جیب بھر دی جاتی ہےجسے وہ بجا طور پر انعام و تحفہ تصور کرتا ہے۔ مظاہر فطرت کے پس منظر میں بچے کو اذن مشاہدہ ، حکم رہائی اور تعمیل کے بعد ستائش تک کا ہر لمحہ ہر مرحلہ حسن تربیت کا بہترین نمونہ بن جاتا ہے۔

 جنگلی بیروں سے لطف اندوزہوتے، کھیتوں کھلیانوں سے گزرتے وہ تین نفوس کا قافلہ ایک چھوٹے سے گاؤں میں داخل ہوتا ہے۔ سادہ دیہی زندگی میں صبح کا سورج اپنے تمام تر جمال و جلال سے آسماں پر رواں دواں ہے۔ سامنے سے آتا ہر فرد سلام کرتا اور احوال دریافت کرتا۔ اسی اثنا میں ایک جگہ رکتے ہی بے در و دیواروسیع ڈیرے سے ایک چوبی میز، کرسی اور چارپائی لا کرگھنے سایہ دار درخت کے نیچے بچھا دی جاتی ہیں۔ مہمانوں کی لسی پانی سے تواضع ہوتی ہے اور میزبان دستی پنکھے جھلاکران کی راحت کا سامان کرتے ہیں۔ نجانے کہاں سے بہت سارے بچے وہاں جمع ہونا شروع ہو جاتے ہیں  پھر ایک چھوٹا سا تختہ سیاہ بھی لا کر درخت کے تنے سے لٹکا دیا جاتا ہے۔ بزرگ ہمسفر کرسی سے اٹھتے ہیں ، چونے سے بنے چاک سے خوشخط اردو میں کچھ تحریر کرتے ہیں اور مترنم آواز اس پر سکون ماحول میں جیسے جلترنگ بجا دیتی ہے۔کھردری زمین پر بیٹھے بچےلے میں سبق دھراتے اسی مدھرتا کا خوبصورت حصہ محسوس ہوتے ہیں۔ پھر اچانک یہ منظر زندگی کی چھتیس بہاروں اور خزاؤں کے اس پار کہیں معدوم ہوجاتا ہے۔لمحہء موجود میں صرف”کرو مہربانی تم اہل زمیں پر، خدا مہرباں ہوگا عرش بریں پر”  کا سبق ورد مجذوب کی مانند چار دانگ عالم میں گونجتا محسوس ہوتا ہے۔

کتنی خوش نصیبی اور اعزاز و سعادت ہے کہ زیر شجر تعلم سے کچھ ہی دیر قبل ندی کنارے اس انمول نصیحت کا  پہلامخاطب بچہ میں تھا جسے مچھلی واپس پانی میں چھوڑنے کی حکمت سمجھائی گئی ۔  مہرباں بزرگ جو رشتہ دار تو نہ تھے مگر دادا جان کی مثل تھے  راول زیر ہی رک گئے اورمیں عم محترم کا ہاتھ تھامے قدرے اداسی سے اگلی منزل کی جانب چل پڑا ۔ کسے معلوم تھا ایک مدرس کی چھوٹی سی ہدایت اور دو جملوں پر مشتمل نصیحت  بعد ازاں زیست کی جہت کا تعین کرتے ہوئے حرز جاں بن جانے کی طاقت رکھتی ہے۔ اس یادگار سفر میں ہمراہ احباب  بقیہ زندگی میں عابد جعفری اور شبیر حیدر کے نام سے جانے جاتے رہے۔ اس وقت دونوں ارواح سعید بالترتیب  راول زیر اور منوال کے پرائمری سکولوں میں معلم تھیں۔ آج ریگ زار جنوں اورگلعذار خرد میں مسافتوں کے کئی آزردہ و آسودہ سنگ ہائے میل طےکرنے کے بعد پلٹ کے پیچھے دیکھتا ہوں تواپنی انگشت شہادت تھماکر چلنا سکھانے والے ،نطق کو شیرینی حرف اور قلم کو سوز دروں سے روشناس و متعارف کروانے والے دونوں مردان حر،زمان و مکاں کے جھمیلو ں سے آزاد اپنے اپنے آبائی قصبوں میں  دبیزردائے خاک اوڑھے ابدی نیند سو چکے ہیں ۔ آج سماعت ان کی اصوات شیریں کی نغمگی، بے ساختگی و بر جستگی اور چشم نم ان حسیں صورتوں کی ایک جھلک دیکھنے کو ترستی ہے۔ ان کی محبت، انہی کا اعجاز تدریس ہے کہ انگلیوں میں قلم کی موجودگی بھی گویا ان کے پاکیزہ ہاتھوں کا لمس محسوس ہوتی ہے۔ بچپن کی ان گنت بھولی بسری یادوں کے خزینے میں سے کئی گہر و لا جوردواقعات تاحال ذہن کے تیرہ و نہاں خانوں میں جڑے جلا بخشتے ہیں۔ سفر زیست میں مذکورہ بالا دونوں اساتذہ کرام کےدروس عالیہ کی یادیں خود شناسی و خدا شناسی ، خودداری و خودی ، بیداری ضمیر و عزم تعمیر، ذوق مشاہدہ و شوق تجربہ ، طرز تفکر وفرض  تشکر ، حریت افکار و جرات اظہار سے معمور دکھائی دیتی ہیں۔

ایک ہستی عظیم المرتبت شاعر اور دوسری نابغہء روزگار انشا پرداز ہو تو ان کی انگبیں رفاقتوں سے عطر فیض کشیدکرنے کے لیے محض با ظرف و با ادب ہونا اولین تقاضا و یکے از آداب فرزندی رہا۔ہر دو باوقار  پیکران خاک،  مہرو وفا، عجز و انکسار ، عزیمت و قناعت کی جیتی جاگتی تصاویر تھے۔انسان دوستی، غریب پروری جیسے اوصاف حمیدہ بھی ان کی شخصیتوں کا خاصہ تھے اور اسی متاع بے بہا کو بانٹتے بانٹتے ان کی زندگی کی شام ہوئی۔ خطہ ء چکوال ا ور قرب و جوار میں ان کے پیشرو اور ہم عصر، اطرافیان و شاگردان ، احباب و رفقاء صدیوں سےزبان و ادب کی آبیاری و ترویج میں بو قلموں انداز میں سیمابی کردارادا کرتے چلے آئے ہیں۔

کون نہیں جانتا کہ ماضی میں اردو زبان ، ریختہ اورکھڑی بولی کے علاوہ لہندے کی زبان کے طور پر بھی جانی جاتی تھی ۔اس خطےبشمول دھن کہن  کو لہندا ( غرب )بھی پکارا جاتا رہا ۔ اس وادی زیتون میں کہسارتحقیق تشنہ کام کو تیشہ فرہاد سےلیس جنوں خیزجویان دانش و خرد میسر آئے تو  نتائج تحقیق کی رو سےعین ممکن  ہے یہ علاقہ دبستان دلی اور دبستان لکھنؤ سے کسی صورت کمتر نہ نکلے ۔ ولی دکنی سے کہیں پہلےشاہ مراد کا صاحب دیوان ہونا، اعلٰی افکارو ادب کا ظہور مسلسل ، نسل نو کی کثیر تعدادمیں قلم برداری بلا مبالغہ کسی حقیقت منتظرکا پتہ دیتی ہیں اور بہ زبان حال، یاران نکتہ داں کو صلائے عام دیتی ہے کہ پنجابی کے مختلف لہجوں کے ساتھ ساتھ اردو زبان و ادب کی ترویج و اشاعت میں ہی نہیں بلکہ منابع کی ہئیت گری اور قواعد کی ساخت پردازی میں بھی اس خطہ ءگمنام کا کیا کردار و منزلت اور مقام و مرتبہ  رہا ہے۔

ابو ریحان البیرونی کوخراسان  سے  غزنی و کٹاس  تک سفر و حضر  میں نجانے کیا کیا  امتحان و ابتلا درپیش رہے ہونگے تب نوبت”  کسب کمال کن کہ عزیز جہاں شوی ” تک پہنچی مگربلا اشکال،   دور حاضر اورپیش آمدہ  عہد ، تدریس و تعلیم اور تحقیق و تدوین کے ضمن میں سہولتوں اور وسعتوں کا حامل زمانہ ثابت ہو رہا ہے۔ ازل سے تشنگان علم و حکمت، متلاشیان معرفت و بصیرت اور راہنوردان زبان و ادب کو بتان  تعصب و تفریق ۔ہست و بوداور من تو  مسمار کرتے ہوئے ستائش و صلہ سے بے نیاز ہو کر کارگاہء  زیست کے تابندہ افق پر نئی جہتوں ، نئے راستوں اور نئی منزلوں کے قصد کا مرحلہ در پیش  رہاہے اور ہمیشہ رہے گا کہ عادل و دانائے راز آدم زادے کی فطرت سلیم اور جستجو ئے حق ہی اسے شرف انسانیت سے ہمکنار اور تخت تکامل پر متمکن کرتی ہے۔علم و قلم کا  راستہ ہی روشنی، خوشبو، امن اور فلاح کاواحد راستہ ہے۔

"اک بات درمیاں ہے کہ ہے ان کہی ہنوز

اک راز ہے کہ حیرت موئےقلم میں ہے”

  مجھ جیسے، سینکڑوں نہیں ہزاروںنفوس کے دست ہائےبے مایہ کو   اپنے اخلاص و  تربیت سے ندی کی ریت سے قلمزار تک  پہنچانے والےمعلمان بے مثل ومحسنان جاں ،محترم شبیر حیدراورمحترم عابد جعفری  کی فکر و فلسفہ زیست در حقیقت گنجلک ظاہر بینی و ظاہر پرستی کے مقابل علم وعمل اورعشق وعزیمت کی ایک سہل مگرکم یاب داستان ہے۔

خدا  رحمت کندا یں عاشقان پاک طینت را

(Visited 12 times, 1 visits today)
Close