Written by 5:37 شام اہم خبریں

وہ جو گھر نہیں پلٹے

وہ جو گھر نہیں پلٹے

کئی برس گزرے،ایک شب نانا جان کے ساتھ بیٹھے یونہی تقسیمِ ہندوستان کا ذکرچل نکلا۔ دل چسپ گفتگوایسٹ انڈیا کمپنی، دوقومی نظریےاورانجمن حمایت اسلام کے مشاعروں سے ہوتی ہوئی جب اگست 1947 تک پہنچی تو ناتواں بزرگ کو ہجرتوں کے تلخ سفربھی یاد آئے۔ انہماک سے دل گدازو روح فرسا قصے سنتے سنتے میں نے پوچھ ہی لیا کہ نانا جان آپ کشمیر سے پاکستان کیوں منتقل ہوئے تھے؟ وہ بولے، بیٹا ! جب مہاراجہ ہری سنگھ نے اکثریت کے مذہبی، ثقافتی اوردیگررجحانات کو نظرانداز کرتے ہوئے ریاست کشمیرکا الحاق بھارت سے کردیا تو دوراندیش خاندانوں نے دل پہ پتھر رکھ کے رخت سفرباندھا اور پاکستان آ گئے۔ بہت سے ایسے بھی تھے جنہوں نے اپنی آبائی زمین سے جدا ہونا گوارا نہ کیا اوراس امید پروہیں مقیم رہے کہ کل کلاں مسلم اکثریت کی بنیاد پہ کشمیرخود مختار یا اس کا الحاق پاکستان سے ہو ہی جائے گا۔ وہ دن اورآج کا دن کئی نسلوں کی آنکھیں آزادی کا خواب دیکھتے بے نورہوکررزقِ خاک ہوگئیں۔ میرے ناناخاموش ہوئے تو رات بہت بیت چکی تھی۔

1948 سے وقت کے تند دھارے کے ساتھ بہتے بہتے، اقوام متحدہ کی قراردادوں، پینسٹھ واکہترکی پاک بھارت جنگوں اورشملہ معاہدے کے بعد بھی آزادانہ استصواب رائے کا وعدہ پورا نہ ہونےپر کشمیری سڑکوں پراحتجاج کونکل آئے۔ مارچ 1987 کے متنازعہ انتخابات نےعوام کا پرامن سیاسی جدوجہد سے رہا سہا اعتباربھی ختم کر ڈالا۔ یہ مایوسی غم وغصے سے بھرپوراحتجاجی مظاہروں میں بدلی اور رفتہ رفتہ آتش فشاں میں ڈھل گئی۔ ہڑتالیں، جلوس، کرفیو، گرفتاریاں اورجبری گم شدگیاں عام ہونے لگیں توکاروباربھی ٹھپ ہو گئے۔ اپنے تئیں سوئے ہوئےعالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے کی کوشش میں مصروف کل جماعتی حریت کانفرنس جیسےموثرسیاسی دھڑے بھی حسب منشا حق خود ارادیت کے پرامن حل تک نہ پہنچ پائےتولاوہ ابل پڑا۔ کالج، یونیورسٹی اورکھیتی باڑی کو خیرباد کہہ کرجوانوں نے گھروں سے رخصت ہوتے ہوئے ماوں سے اپنےماتھوں پہ روایتی الوداعی بوسے ثبت کروائےاورکہساروں میں نکل گئے۔ خود مختاری کی حامی جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ ہو یا پاکستان سےالحاق کی خواہشمند حزب المجاہدین، مقامی ہم خیال ملتے گئے، قافلے بنتے گئےاور بےآشیاں پنچھیوں کی ڈاریں اپنے دوسرے گھر، آزاد کشمیرمیں اترنےلگیں۔ کٹھن برف زاروں اورگہرے دریاوں کو عبورکرتے، بھٹکتے کشمیری جونہی محفوظ علاقے میں داخل ہوتے توبے ساختہ چیخ اٹھتے؛ ہم پاکستانی ہیں، کشمیرہمارا ہے۔ استقبال کوکوئی موجود نہ ہوتا تووہ والہانہ درختوں کوگلےلگاتےاورمٹی بطورتبرک اپنے چہروں پہ مل مل کےایک دوسرے کو مبارکباد دیتے۔ ایسے سرپھروں کی تعداد دس، بیس یا چند سونہیں، دسیوں ہزاررہی ہوگی۔ پھرنوے کی دہائی میں کوئی روزایسا نہ گزرا جب پچیس، تیس بھارتی سینک اوراتنی ہی تعداد میں عام کشمیری یا عسکریت پسند جان سے نہ گئے ہوں۔

1999 کےسرما میں بھارتی فوج کارگل، دراس اوربٹالک میں اپنے مورچوں کوخالی چھوڑنے کے بعد موسم گرما میں واپس چڑھنا شروع ہوئی توجو بھی نام دیں، آگے انہی اتنک وادیوں، حریت پسندوں یا عسکریت پسندوں کوموجود پایا۔ دفاعی اہمیت کی حامل اہم چوٹیاں واپس لینے میں بھارتی ناکامی کے بعد بلیک کیٹس اورگورکھے بھی پہاڑوں پر چڑھا دیے گئے۔ پاکستان اوربھارت کھل کے مقابل آگئے لیکن جھڑپیں ابھی شمالی برف پوش پہاڑوں تک ہی محدود تھیں کہ میدانوں سے جنگ بندی کی خبرآ گئی۔ دوسری جانب وادی کشمیر کہ جہاں جشن آزادی منانے کی تیاریاں جاری تھیں، ایک حیرت بھرے صدمےمیں چلی گئی۔ رکی دھڑکنیں بحال کرتے ہی کشمیرکی سیاسی اورعسکری قیادت نے ہرحال میں اوراپنے زوربازو پرتحریک آزادی جاری رکھنے کا اعلان کردیا۔

اسی دوران 2001 میں نیویارک میں نائن الیون وقوع پذیرہوا توکشمیرکا قضیہ بھی علاقائی اورعالمی خبروں کےافق سے پس منظر میں چلا گیا۔ صدرپرویزمشرف کے دورمیں امن کی فاختہ کو اڑنے کے لیے سازگارماحول کی فراہمی کی کوششیں خدا جانے کتنی بارآورثابت ہوئیں البتہ سیزفائرکا فائدہ اٹھاتے ہوئے بھارت نےسینکڑوں میل لمبی لائن آف کنٹرول پرسرحد نما خاردارباڑ کی تنصیب اورنئے پختہ مورچوں کی تعمیراطمینان سے مکمل کرلی۔ بھارتی سرکار نےانسانی نقل وحرکت پہ نظررکھنے والے جدید آلات اورجا بہ جا متعین بارڈرسیکیورٹی فورس کی کثرت پرانحصار کرتے ہوئے مبینہ دراندازی ختم اورآزادی کی تحریک کو کچلنے کا دعویٰ کیا جو برہان مظفروانی اورمتعدد دیگرکشمیریوں کی مسلسل جاری مزاحمت سےکمزورثابت ہوا۔ آسیہ اندرابی اوردختران کشمیر، صنف نازک کی جانب سے متحرک رہی ہیں۔ عسکری ماہرین معترف ہیں کہ تہترسال سے برقرارمزاحمت کب کی دم توڑ چکی ہوتی اگرکشمیری مرد وزن خود آزادی کےآرزومند اوراپنے مسلح نوجوانوں کےمددگارنہ ہوتے۔

 بظاہرمودی حکومت نےآرٹیکل 370 کی عاجلانہ تنسیخ کے ذریعے ممکنہ امریکی ثالثی کے سامنے حفاظتی پشتہ تعمیر کرنے کے بعد گویا تمام ترتنازعے کو یکطرفہ طورپرہمیشہ کے لیےدفن کردیا ہے۔ اس میں کون کون شریک تھا اور اس کے کیا مضمرات ہوں گے، وقت کی گرد بیٹھی تومبہم نقوش بھی واضح ہوجائیں گے لیکن اصل فریق ومدعی جس کے حق پرسب سے زیادہ زد پڑی ہے وہ مزاحمت کےاصل سرخیل کشمیری ہیں جونیا حکم ماننے پرآمادہ دکھائی نہیں دیتے۔ سردست بھارت کے لیے کسی ہمسائے کی جانب سے کسی غیرمعمولی عسکری اقدام کا شاید کوئی خدشہ نہیں۔ ہاں وہ جو کہساروں میں نکل گئے تھے ان میں سے ہزاروں نوجوان لڑتے مرتے گمنام بستیوں کے خاموش قبرستانوں میں خاک اوڑھ کرسو گئے، مگروہ لاتعداد جو زندہ ہیں اورابھی واپس گھر نہیں پلٹے، اب نجانے کتنے مزید نوجوان ان سے جا ملیں گے۔ یہی بھارتی حکومت کا اصل درد سر ہےکہ سری نگر، سوپوراورکپواڑہ کی گلیاں آج بھی ان پہاڑوں سےجڑی ہیں ۔ گذشتہ جمعہ کے پرتشدد مظاہروں کے بعدعید کے روز بھی کرفیو کا نفاذ بتاتا ہے کہ حالات گرفت میں نہیں۔ صحافیوں کی ہرجگہ آزادانہ رسائی، ٓانٹرنیٹ اورٹیلی فون تاحال معطل ہیں۔ جبر، خواہ دنیا کے کسی خطے میں ہو، وہ آزمودہ کھوٹا سکہ ہےجسےانسانی فطرت شعورکی میزان پہ ازل سے رد کرتی چلی آئی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

انعم صبا           

(Visited 12 times, 1 visits today)
Close