Written by 4:59 شام اہم خبریں

چھوڑئیے صاحب ،عید نہ خراب کیجئے !

یوں کہنے کو تو وہ کم و بیش ڈیڑھ سوعام سے نفوس ہی تھے جو چھپر پھاڑ کر ملنے والی نعمت غیر مترقبہ و غیرمتوقع کی منادی کا زہر بھرا رس کانوں میں گھلتے ہی اسے عیدی سمجھ کر سمیٹنے گھروں سے کنستر، بوتلیں، آبخورے اور کٹورے تک ہاتھوں میں لیے سڑک کنارے اوندھے ہو جانے والے تیل بردار ٹرک کی جانب اندھا دھند بھاگ پڑے اور بقول کسے خود بھی ایک ‘حادثے” کا شکار ہو گئے۔

جتنے منہ اتنی باتیں کے مصداق، یہ بھی بجا کہ رمضان کریم میں دن دیہاڑے کسی بے صبرے تمباکو نوش کےپیٹرول کے تالاب کےبیچوں بیچ سگریٹ سلگانے سے بھڑک اٹھنے والی آگ میں جھلس جانے والے انسان، بیک وقت مظلوم اور غریب بھی ہیں اور جاہل و لالچی جیسے طعنوں کا ہدف بھی۔ 

یہ بھی سچ کہ پاکستان افراط و تفریط کی ہر دو انتہاوں میں منقسم ہے جہاں مہنگائی اور کم آمدنی کی کبھی نہ تھمنے والی چکی کے دو پتھریلے پاٹوں کے درمیان ہمہ وقت پسنے والے عام انسانوں کے سماجی رجحانات و معاشرتی رویوں میں بالعموم زیادہ فرق نہیں پایا جاتا اور مئے مفت کا مژدہ جاں فزا ہر ادنیٰ و اعلیٰ کو مرغوب و مطلوب ہے۔

یہ بھی غلط نہیں کہ قیمتی تیل نے بہہ بہہ کر سوکھی پیاسی زمین میں جذب یا لو اڑاتی ہوا میں تحلیل ہو جانا تھا ، تو کونسا گناہ کبیرہ سرزد ھو گیا احمد پور شرقیہ کی نواحی بستی کے چند غروب ہو جانے والے غریبوں سے جو وہ اپنی کھٹارا موٹر سائیکلوں میں دو گھونٹ مفت تیل کے ڈال کر دو دو چاندوں والی عید کی خوشیوں کو چار چاند لگا لیتے۔ کونسی قیامت ٹوٹ پڑتی اگر وہ مشہور زمانہ شاہی سواری چنگ چی میں پلے سے دھیلا خرچ کئےبغیر اپنےضدی بچوں کوان کی خالہ، پھوپھی، ماموں ، چچا یا سہیلیوں اور دوستوں کے گھروں کا ایک پھیرا لگوا دیتے ۔  مگر برا ہو اس موئےمہنگے تیل کا جس نے پہلے سب کی رال ٹپکا کر دعوت عام دی اورپھر گھیر کرسینکڑوں کو اپنے ساتھ لے جلا۔

 لیکن بھلا اس میں اتنا جذباتی ہونے کی کیا تک بنتی ہے، حادثے تو ہوتے رہتے ہیں اللہ کی مرضی۔ اور فکر مند ہونے کی آخر کیا بات ہے خیر سے اتنی کثیر آبادی والے ملک میں انسانوں کی کوئی کمی ہے جو سب بلا وجہ دکھی اور پریشان ہو رہے ھیں؟ نہ تو یہ پہلا واقعہ ہے کہ سب منہ بسورے شکوے کرتے اور نہ آخری کہ منہ پھاڑے طعنے دیتے نظر آتے ہیں۔ ہزاروں مثالیں ہیں، کراچی کا ملبوسات کا کارخانہ ، لاہور کی صنعت، جھنگ کی شاہراہ ، پارا چنار کے بازار اور کوئٹہ میں جا بجا اور کہاں کہاں ایسا نہیں ہوتا چلا آیا اور خاکم بدہن کیا اپنے مجوزہ مقام اور مقررہ وقت پر آئندہ نہیں ہوگا ؟

  جناب شرط بد لیجئے، دیکھ لیجئے گا تحقیقاتی رپورٹ میں بھی اصل مجرم اور قصوروار تو وہ نااہل ڈرائیور ثابت ہو گا جس نے اپنے نصف درجن بچوں اور ضعیف والدین کی کفالت کے نام پرنوکری ڈھونڈی بھی تو تیل سے بھرا موت کا کنواں ساتھ لیے قریہ قریہ پھرنے کی ۔ کچھ اور نہیں ملا تھا کرنے کو۔  اس پر مستزاد یہ کہ بغیر سوئے کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ فاصلہ طے کرنے کی لت میں بھی مبتلا تھا۔ مسلسل جاگنے کو چرس کے نشے میں دھت پیسہ بنانے کی ہوس میں گم اس عاقبت نا اندیش کواونگھ بھی آئی تو عین چاند رات والے روزحادثہ کر کے سب کا موڈ خراب کرنے کو۔ لو نگوڑا مر گیا اور سینکڑوں ان پڑھ لالچی بھی انجام کو پہنچے۔ ان کا تو یہی علاج تھا مگر ان کی اس غفلت کی بنا پر نجانے کتنی مصروف شخصیات کو اہم ریاستی و خانگی امور ترک کر کے اس بلا خیز گرمی میں بہاولپور کے صحراوں میں خجل و خوار ہونا پڑا اور وہ بھی محض خلق خدا نامی نقارے کو بجنے سے روکنے اور اپنے اپنے حق میں حسب استطاعت قلمی صحیفوں اور برقی تختیوں پر دھاڑتی چنگھاڑتی سرخیوں اور خبروں میں دو حروف ذکر خیر کے حصول کی معصوم و جائز تمنا کے واسطے۔  

اور کوئی منہ نوچ لے اس نا ہنجار کا جو یہ کہتا سنا گیا کہ عوام کی غربت و پسماندگی اگر دور نہیں کی جا سکتی تو کم از کم شعور و آگہی اور تعلیم و تربیت کا اہتمام تو کیا جا سکتا ہے نا !   کوئی اس ازلی شکایتی اور کورچشم سے پوچھے اسے روشن دماغ اور مخلص ارباب بست و کشاد کروڑوں کے اشتہارات کے ذریعے لاکھوں کی مالیت پر مشتمل ترقیاتی منصوبوں کی تسلسل اور ثابت قدمی کے ساتھ تشہیر کرتے نظر نہیں آتے کیا؟  یہ بھی توعقل سے بے بہرہ عوام کو باشعور بنانے کی سعئی خیر ہے۔

باقی رہی بات حادثات سے بچاؤ کی تدابیر اور ابتدائی طبی امداد کی فراہمی کی تربیت ، ہنگامی حالات سےمحلے کی سطح پر نمٹنے کی اجتماعی استعداد ، پیشگی انتباہ اور حادثات کے فوری بعد امداد رسانی کے اداروں کا قصبات اورشہروں تک منظم دسترس رکھنا اور حقیقتاً فعال ہونا تو یہ ترقی یافتہ مغربی ممالک کے چونچلے ہیں۔ وطن خداداد ایسی عیاشیوں کا متحمل نہیں ہو سکتا کہ غیر اہم کاموں پر وقت کا ضیاع اور وسائل صرف کرنا امانت میں خیانت، قومی خزانے پر بوجھ  اور شائد نظریہء پاکستان کے بھی خلاف ہو۔

چھوڑئیے صاحب کیوں دل جلاتے ہیں اپنا اور ہمارا ؟ قوم کے دل مضبوط اور حافظے بہت شاندار ہیں پچھلے سا نحات کسے یاد ہیں جو آپ اس چھوٹے سے واقعے پر دل اور چھوٹا کئے بیٹھے ہیں۔ جو مر گیا اسے تو شکر ادا کرنا چاہیے کہ غربت، بے روزگاری، لوڈ شیڈنگ ، جہالت اور ہر غم سے جان چھوٹی اور ہمیشہ کے لیے نجات مل گئی۔ آپ ان کا مرثیہ سنا کر سب کی عید تو نہ خراب کریں۔ آئیں ٹھنڈا شیر خرمہ اور رس ملائی کھائیں، دیکھیں کیا اعلیٰ سجاوٹ ہے خشک میوہ جات کی۔ 

آخریں روزے کی رخصت ہوتی شام تھی، میں بطور مہمان کسی کے ہاں ٹھنڈے یخ، وسیع و عریض” نقار خانے” میں بیٹھا تھا، تبصرے تھے، تجزیئے تھے، قہقہے تھے ،مبارک سلامت کی آوازیں تھیں، اور میں تھا جسکی زباں خاموش و گنگ تھی۔ میں سوچ رہا تھا کیا ہم اتنے بے حس اور خود غرض ہیں کہ اب رمضان کی تربیت بھی بے اثررہتی ہے؟ کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا؟  کان پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی۔ فسردہ دل کی ڈوبتی دھڑکنوں میں کسی درویش خدا مست کا بس ایک مصرعہ جیسےپیوست ہو گیا۔

"جلا ہے جسم جہاں دل بھی جل گیا ھوگا”  ۔۔۔۔

وہیں بیٹھے بیٹھے ، بہت عزیز و محترم دوست اکرام الحق سلہری کو ٹیکسٹ کر کے دریافت کیا کہ مکمل شعر کیا ہے۔ ان کا جواب آیا ۔۔۔۔۔۔

 ” کریدتے ہو راکھ جستجو کیا ھے”

میں کچھ دیر تک نرم و گداز صوفے پریونہی چپ چاپ اور ساکت بیٹھا رہا، سفید سنگ مرمر پہ بچھے قیمتی قالین کے کسی بے وقعت ریشے سے ڈبڈبائی آنکھیں ایسی الجھیں کہ اطرافیان ورنگ محفل سے بے نیاز ہو گیئں۔

 کانوں میں صرف ایک ہی صدا گونج رہی تھی ۔۔۔۔۔۔

” کریدتے ہو راکھ جستجو کیا ہے” 

 مجھے یوں لگا، میرے ارد گرد ہرطرف راکھ ہے، صرف راکھ ۔    

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مجتبٰی حیدران،

 اسلام آباد

(Visited 4 times, 1 visits today)
Close