Written by 5:23 شام اہم خبریں

ڈیرہ اسماعیل خان میں ظروف سازی

ڈیرہ اسماعیل خان میں ظروف سازی

سردیوں کے اختتام پر  جہاں غنچے کھلتے نظر آتے ہیں ، وہیں ڈیرہ اسماعیل خان کے دیہات میں  جا بجا مٹی کے ظروف بنتے نظر آتے ہیں ۔ یہ ایک طرح سے دھوپ کی بڑھتی ہوئی تمازت  کا اعلان بھی ہوتا  ہے اور گرمیوں کی آمد کا بھی۔ ظروف سازی  اس علاقے کی ایک معروف گھریلو صنعت ہے۔ مقامی محنت کش اپنی مہارت  کا  اظہار طرح طرح کے ظروف بنا کر کرتے ہیں ۔ یہ ظروف مقامی ثقافت کا ایک لازمی جزو ہیں اور گھر گھر استعمال ہوتےہیں ۔ ان ظروف میں پانی کا گھڑا ، پانی کا مٹکا ،گھڑے اور مٹکے کا ڈھکن،  تندور  ، سالن پکانے کیلیے”ہانڈی”   اور "کٹوا”      روایتی طور پر ہمارے دیہات میں استعمال ہوتے ہیں ۔

گھڑے کا پانی تو اپنی ٹھنڈک کیلیے مشہور ہےہی مگر اس کےذکر کے بغیر   سوہنی مہینوال کی داستان بھی مکمل نہیں ہوتی۔  اسی طرح مٹی کی ہانڈی  جدید ریستوران کا ایک حصہ بن چکی ہے ، مٹی کی ہانڈی  ، کھانے کے ذائقے کے ساتھ ساتھ پاکستان کی ثقافت کا اظہار بھی ہے۔ میانوالی اور اٹک کے کچھ علاقوں میں گوشت کو  مٹی کی بڑی ہانڈیوں ، جو مقامی طور پر کٹوا کہلاتی ہیں، میں پوری رات کوئلے کی ہلکی آنچ پر پکا یا جاتا ہے۔ اس ڈش کو  "کٹوا” ہی کہتے ہیں جسے شادیوں  کے کھانے میں بڑے اہتمام سے پیش کیا جاتا ہے-

مٹی کے ظروف تیار کرنے میں ہنرمند اور اس کا "چاک” ، دونوں کا یک جان و یک قالب ہونا بڑ ا ضروری ہے۔ کسی ایک کا بھی  غیر متوازن ہونا،     غیر متوازن ظروف کی شکل میں نمودار ہوتا ہے ۔  اچھے ظروف بنانے کے مراحل میں   مٹی کا انتخاب ، اس کو گوندہنا ،  چاک پر کسی برتن کی شکل دینا ،دھوپ پر سکھانا  اورآخر میں اس کو بھٹی میں پکانا شامل ہیں۔ ان مراحل کوگاہے بگاہے اردو ادب  کے استعاروں  میں استعمال کیا گیا ہے۔ جس کی ایک عمدہ مثال  عصر حاضر کے شاعرشہزاد نیر کی یہ  غزل ہے ۔

تو بنا کے پھر سے بگاڑ دے ، مجھے چاک سے نہ اُتارنا
رہوں کو زہ گر ترے سامنے، مجھے چاک سے نہ اُتارنا
تری ”چوبِ چاک “ کی گردشیں مرے آب وگِل میں اُتر گئیں
مرے پاﺅںڈوریسےکاٹکےمجھےچاکسےنہاُتارنا
تری اُنگلیاں مرے جسم میں یونہی لمس بن کے گڑی رہیں
کفِ کوزہ گر مری مان لے مجھے چاک سے نہ اُتارنا
مجھے رکتا دیکھ کے کرب میں کہیں وہ بھی رقص نہ چھوڑ دے
کسی گردباد کے سامنے، مجھے چاک سے نہ اُتارنا
ترا زعم فن بھی عزیز ہے، بڑے شوق سے تُو سنوار لے
مرے پیچ و خم ، مرے زاویے ، مجھے چاک سے نہ اُتارنا
ترے ’ ’ سنگِ چاک“ پہ نرم ہے مری خاک ِ نم، اِسے چھوتا رہ
کسی ایک شکل میں ڈھال کے مجھے چاک سے نہ اُتارنا
مجھے گوندھنے میں جو گُم ہوئے ترے ہاتھ، اِن کا بدل کہاں
کبھی دستِ غیر کے واسطے مجھے چاک سے نہ اتارنا
ترا گیلا ہاتھ جو ہٹ گیا مرے بھیگے بھیگے وجود سے
مجھے ڈھانپ لینا ہے آگ نے، مجھے چاک سے نہ اتارنا

ظروف سازی کے ان مراحل کو ڈیرہ اسماعیل خان کے نواحی قصبے یارک میں عکس بند کیا گیا ۔ یارک کے ہنرمندمطیع اللہ  نے ہمیں تصاویر لینے کی نہ صرف   اجازت دی بلکہ مختصر وقت میں کئی اقسام کے برتن بنا کر اپنی مہارت کا مظاہرہ بھی کیا۔ تصاویر لیتے ہوئے    اس فن کی پیچیدگی کا احساس ہوا جب مطیع اللہ کی آنکھیں   اور اسکی انگلیوں  کی حرکات   ، چاک کے ساتھ اس طرح یک جاں ہویں کہ چاک، جس کی گردشیں مطیع اللہ کے پاؤں کی کی محتاج تھیں ، اس کے جسم کا ایک حصہ محسوس ہونے لگا،  کبھی چاک کو تیز کرنا تو کبھی چاک کو آہستہ رو کرنا، گیلی مٹی کو نرم کرتے ہوے  اپنی انگلیوں کے لمس سے ڈھالنا، آنکھوں اور ڈھلتی ہوئی مٹی کے درمیان ایک ان دکھا  رابطہ   او ر آخر میں ایک برتن کی شکل میں ڈھالنے کے بعد سبک رفتاری  سے ایک باریک ڈوری سے چاک سے برتن الگ کرتے ہوئے فنکار کی آنکھوں میں ایک فخریہ اطمینان  اس تصویر کشی  کا حاصل تھا۔  ایک کے بعد ایک برتن  بنا نا اور ہر بار ایک نئی شکل دینا  اس بات کی غماضی کررہ تھا کہ یہ قدیم فن زمانے کی تمام تر جدتوں کے باوجود زندہ ہے اور زندہ رہے گا۔، 

(Visited 14 times, 1 visits today)
Close